Posts

Showing posts from August, 2025

اک چراغ جو شہر کی ہواؤں میں بجھ گیا قسط نمبر 4

Image
اک چراغ جو شہر کی ہواؤں میں بجھ گیا                                    قسط نمبر 4 زندگی تلخیوں اور آزمائشوں سے عبارت ہے۔۔وصل کے دن ہوں یا راتیں ۔۔۔۔۔سانسیں  اکھڑتی ہیں ۔۔۔دم گھٹتا ہے۔۔۔۔جدائی  بہت ہی بڑی آزمائش ہوا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انتظار بھی بہت ہی تکلیف دہ چیز ہے۔سارنگ کو ترس گئے ہیں۔۔ اب تو دن کے روشن اجالے میں اپنے لخت جگر کو دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔ یقین ہےمدت سےترستی آنکھوں میں میرا نور نظرعام ہو گا۔۔بھلا خواب میں ملنا بھی کوئی ملنا ہے۔سارنگ کی ماں چارپائی پہ اٹھ بیٹھی۔۔تم بھی ٹھیک کہتی ہو۔۔گھر کا سناٹا اور اوپر سےبڑھاپا دونوں ہی بہت ستاتے ہیں۔۔اب کس کو بندہ پکارے۔۔سارا دن رونق لگی رہتی تھی۔۔کبھی بیٹےکے لاڈ اٹھاتے تو کبھی سینے سے لگا کر  جان جوان ہو جاتے مگر اب تواندر خالی خالی سا لگتا ہے۔شام کو جب بھی کھیتوں سے لوٹا کرتا ۔۔۔ سارنگ کا یہی شور ہواکرتاتھا کہ میں دیر کیوں کردیتا ہوں گھر آنے میں۔۔۔بہت فکر مند ہوا کرتا تھا۔۔۔اب دیر سویر کیسی ۔۔اب کون کس کی انتظار کرے۔۔۔۔سارنگ ک...

اک چراغ جو شہر کی ہواؤں میں بجھ گیا قسط نمبر 3

Image
        اک چراغ جو شہر کی ہواؤں میں بجھ گیا            قسط نمبر3                   سارنگ کیا ہوا ۔ تم رو کیوں رہے ہو۔۔؟۔سارنگ خاموش دم  بخود دیوارکا سہارا لئےزارو قطار روتا رہا۔۔..حناء زبردستی سارنگ کو تھامتے ہوئےاٹھا کر کرسی پہ بٹھاتی ہے۔اتنا قریب سے سارنگ نے کبھی کسی لڑکی کو نہیں دیکھا تھا۔صنف متضاد کی رعنائی اورجمالیاتی خوشبو اسکی سانسوں میں بری طرح سرایت کر گئی۔سارنگ کی آنکھوں میں رنگ بدلہ۔سانسوں میں ایک عجیب سی ہل چل اور دل کی دھڑکنوں میں لرزتی کیفیت۔۔۔بدن میں رونگٹے ۔۔۔کانپتے ہاتھ حنا کی خوبصورت بھری انگلیوں میں پیوستہ ہاتھ چھوٹنے پہ چھوٹے نہ پائے۔۔ایک ایسا نشہ رگوں میں سرائیت پذیر ہوچکا تھا کہ دنیا رک سی گئی۔۔حنا کواس لطف کرم کا کوئی پہلا پہل اتفاق نہ تھا۔اس نے  اپنےاور سارنگ کے بیچ فاصلوں کو قوت باطل سے پچھاڑا اوراپنے ہونٹوں سے سارنگ کے بدن میں خامشی سے وہ ذہر اتاری کہ بے چارہ سارنگ عمر بھر کو لاعلاج سحر کی نظر ہو گیا۔۔حنا الٹے پاؤں جلدی میں ایسے وہاں سے پلٹی جیسےکسی آس...

اک چراغ جو شہر کی ہواؤں میں بجھ گیا قسط نمبر2

Image
  آئیڈیل سےمراد  ایک تصویر ایسی جس میں تخیلاتی رنگ تمام کے تمام اپنی مرضی سے نظر آئیں ۔    اک چراغ جو شہر کی ہواؤں میں بجھ گیا قسط نمبر2. حنا اور روبی کی ذندگی نظریہ ضرورت کی عملی شکل تھی شاید ان کےگھر کے ماحول میں یہی چبلتیں  پروان چڑھ چکی تھیں جب روبی نے یہ کہا کہہ تم تو اکبر سےبھی پیار کی پینگیں چڑھا چکی ہو کون اکبر حنا ایک دم بھڑک اٹھی۔کیونکہ تیر نشانے پہ جا لگا بات بدلنےکی ناکام کوشش میں آخر روبی کی بات حنا کو سننا ہی پڑی وہی اکبر تمھارا سابقہ ٹیوشن فیلو ۔ وائی بلاک کوٹھی نمبر پانچ تمھارے گھر سے چوتھی گلی ۔۔بس کرو روبی خواب بننے پہ بھی اب پابندی لگا رہی ہو ۔حنا خواب جاگتی آنکھوں سے بننے کا مطلب کسی کو صاف صاف دھوکہ دینے کے مترادف ہے کیوں کسی کی ہنستی بستی زندگی میں تم زہر گھولنے پہ تل گئی ہو۔اپنےحالات سے  سیکھنے کی کوشش کرو اپنی تہذیب اور تمدن سے جڑ کر رہو۔معاشرے کی اونچ نیچ  سمجھو گلیمرس کی دنیا سے نکل آؤ کب تک ایسے دیکھتی آنکھوں خواب بنتی رہو گی۔میں تمھیں سارنگ سے  نوٹس اور اسائن منٹس تک محدود رہنے کا ہی مشورہ دوں   گی دی...

“In Rural Life, a Teacher Is the Name of a Silent Battle”

Image
  “In Rural Life , a Teacher Is the         Name of a Silent Battle” — A Tribute to the Forgotten Soldiers of Education Twenty-two years have passed. I have been teaching children in a small village school —completely free of cost. No admission fee, no monthly tuition. I even provided the textbooks. For orphaned children, I covered their daily pocket money and extra stationery from my own savings. From the outside, this work may seem simple. But in truth, it is a constant struggle—a war without applause, without rewards, and without recognition. I sacrificed my own comforts. I gave up personal desires. I saved every rupee—sometimes borrowing, sometimes giving from my pocket. Days turned into nights, nights into years, and each year brought new challenges. Walking a rough and thorny path, twenty-two years slipped by. Then one day, I looked at my own innocent child—suffering from a deadly illness—and woke up to a painful truth: I was still s...