اک چراغ جو شہر کی فضاوں میں بجھ گیا قسط 5
اک چراغ جو شہر کی فضاؤں میں بجھ گیا۔۔قسط نمبر5 Featured image: دیہاتی ذندگی سارنگ ٹکٹکی باندھے اپنے دونوں ہاتھوں کے سہارے اپنے ماتھے کو تھامے ایسے غورو فکر میں گم تھا جیسے کوئی اپنی عاقبت کے لئے فکر مند ہوتا یے۔اور اگر فکرمندی عاجزی کی دہلیز پہ آن کھڑی ہو تو چہرہ آئینہ ساز کا ہم راز معلوم ہوتا ہے ۔۔تربیت اور ماں کی گود ایک نہ ایک دن ضرور اپنا آپ کسی نہ کسی رنگ میں اثر لازمی دکھاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکیے کےہاتھ میں خط دے کر سارنگ کی خوشی کی انتہاءاپنے عروج کو جا پہنچتی یے۔۔۔۔۔ سارنگ فورا لپک کر خط وصول کرتا ہے اور لفافے کو پیار سے چومتے ہوئے جلدی اور بے تابی سے پھلواڑی میں بیٹھ کر خوشی خوشی خط پڑھتا ہے۔۔۔ہاسٹل آ کر اپنے سامان کو بیگ میں رکھتا ہے اور خوشی چہرےپہ عیاں ہوتی ہے کہ اپنے ماں باپ سے ملنےگھر جا رہا ہے۔۔۔۔روبی کی رستے میں سارنگ سے ملاقات ہوتی ہے۔۔۔جلدی اور خوشی میں سارنگ کو دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتی ہے۔۔۔ سارنگ بتاتا ہے کہ وہ آج ہی اپنے گاؤں جا رہا ہے۔۔کچھ دیر بعد حناء کو روبی سے معلوم پڑتا ہے کہ سارنگ گاؤں جا رہا ہے ۔۔وہ ہاسٹل کےنمبر پہ کا ل کرک...